خفیف الحرکات

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - اوچھی حرکتیں کرنے والا، چھچھورا، کم ظرف۔ "یہ صاحب ٹھیرے. تماشبین، خفیف الحرکات انہوں نے تخت پر چڑھتے ہی وہ پاؤں نکالے کہ پناہ خدا۔"      ( ١٩١٩ء، واقعات دارالحکومت دہلی، ٥٥:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'خفیف' کے ساتھ 'ال' بطور حرف تخصیص کھانے کے بعد عربی زبان سے ہی اسم 'حرکت' کی جمع 'حرکات' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے ١٨٨٩ء میں "سیر کہسار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اوچھی حرکتیں کرنے والا، چھچھورا، کم ظرف۔ "یہ صاحب ٹھیرے. تماشبین، خفیف الحرکات انہوں نے تخت پر چڑھتے ہی وہ پاؤں نکالے کہ پناہ خدا۔"      ( ١٩١٩ء، واقعات دارالحکومت دہلی، ٥٥:١ )